
فش ہورن کیسل کی ابتدا 1200 کی دہائی کے آس پاس کی ہے، لیکن اس کی تزئین و آرائش کی گئی اور 1920 میں آگ لگنے کے بعد اس نے موجودہ شکل اختیار کی۔ یہ قلعہ آسٹریا کے سالزبرگ علاقے میں زیل ایم سی کے قصبے میں واقع ہے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران، 1938 سے لے کر تنازعہ کے خاتمے تک، قلعے کو SS نے Dachau حراستی کیمپ کے سیٹلائٹ کیمپ کے طور پر استعمال کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قلعے کو قیدیوں اور سیاسی قیدیوں کے لیے حراست اور کنٹرول کی جگہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔اس قلعے سے متعلق ایک قابل ذکر واقعہ مئی 1945 میں پیش آیا، جب ایک اہم نازی رہنما ہرمن گورنگ کو امریکی فوجیوں نے قلعے میں پکڑ لیا۔ گورنگ نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی (این ایس ڈی اے پی) کے ایک نمایاں رکن تھے اور ایڈولف ہٹلر کے دور حکومت میں ایک سرکردہ شخصیت تھے۔جنگ کے بعد، قلعہ ایک نجی رہائش گاہ بنا رہا اور عوام کے لیے اندرونی دوروں کے لیے نہیں کھلا ہے۔ تاہم، اس کی تاریخ اور فن تعمیر اسے اب بھی تاریخی اور ثقافتی دلچسپی کا ڈھانچہ بناتا ہے۔
